معلومات و دستاویزات کی تنظیم کا تحقیقی شعبہ
الف۔ مشن 
اسلامی معلومات و دستاویزات کی تنظیم و ترتیب کے شعبے کا مشن ذرائع کو منظم کرنے کے نظامات کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلامی دستاویزات کے مواد کو معیاری بنانا، مطالعۂ تحلیل اجزاء اور وصف نگاری کرنا۔

ب۔ فرائض
 1۔ اسلامی علوم کے مآخذ کی بازیابی کی غرض سے، اسلامی علوم کے مرکز کے موجودہ اصطلاح ناموں کے حوالہ جات اور روابط پر مبنی کنٹرول شدہ فہرست بندی۔ 
 2۔ برقی اور روایتی کتب خانوں میں موجود دستاویزات اور اسلامی ورثے کی فہرست بندی اور درجہ بندی۔ 
 3۔ برقی اور روایتی کتب خانوں میں موجود مآخذ کی درجہ بندی اور اشاعتی کاموں کی پشت پناہی کی غرض سے تیزرفتار اور آسان رسائی کے لئے روایتی کتب خانوں کو برقی کتب خانوں میں تبدیل کرنا۔ 
 4۔ تمام اشاعتی مآخذ کی تشریحی فہرست کی فراہمی۔
 5۔ کتاب خانوں سے متعلق زمرہ جات کو جدید بنانا (یا اپ ڈیٹ کرنا)، جیسے بین الکلیاتی علوم۔
 6۔ اسلامی ورثے اور بنیادی اسلامی ذرائع کی عددی نگارش (Digitization)۔ 
 7۔ ڈیجیٹل کتب خانوں کی منصوبہ بندی اور تیاری۔
 8۔ اصطلاح ناموں کی بنیاد پر ویکیوں (Wiki-s) کی منصوبہ بندی، فراہمی اور تکمیل۔ 


ج۔ طویل المدت مقاصد (5 سالہ) 
1۔ داخلی اور خارجی ساختوں کی سادہ فہرست بندی کی روشوں اور ان میں سے ہر ایک کی اسلامی علوم سے ہمآہنگی کی سطح کے بارے میں تحقیق 
2۔ کتب کے آخر میں رائج فہرست بندیوں کے نقائص کے بارے میں تحقیق اور اصطلاح نامے کے ساتھ اس کی ہمآہنگی کی سطح
3۔ اسلامی اخلاقیات، کلام اسلامی، فقہ، کلام جدید اور ادیان و مذاہب کے شعبوں میں اسلامی مآخذ کی فہرست بندی کے سلسلے میں تحقیق

د۔ قلیل المدت مقاصد (دو سالہ)
1۔ داخلی اور خارجی ساختوں کی سادہ فہرست بندی کی روشوں اور ان میں سے ہر ایک کی اسلامی علوم سے ہمآہنگی کی سطح کے بارے میں تحقیق۔
2۔ کلام جدید کے شعبے میں اسلامی علوم کے مآخذ کی فہرست بندی کے سلسلے میں تحقیق۔
3۔ اسلامی اخلاقیات، کلام اسلامی اور فقہ وغیرہ کی فہرست بندی کے ارتقاء اور تکمیل کے سلسلے میں تحقیق۔


ہ۔ پروگرامات
اسلامی اخلاقیات کے مآخذ کی موضوعی فہرستوں کی جانچ پرکھ اور اصلاح
 کلام جدید کے مآخذ کی موضوعی فہرستوں کی جانچ پرکھ اور اصلاح
 امام موسی صدر کی کاوشوں کی موضوعی فہرست کا تسلسل، اور ان کی جانچ پرکھ اور اصلاح 
 رہبر معظم کی کاوشوں کی موضوعی فہرست کا تسلسل، جانچ پرکھ اور اصلاح
 فقہی مآخذ کی موضوعی فہرست (پہلے مرحلے میں جواہر الکلام کا مجموعہ
 "فن و ہنر کی فقہ" (Jurisprudence of art and literature) کے موضوعی مآخذ کی کتابیات اور فہرست 
 اسلامی علوم و ثقافت اکیڈمی کے اشاعتی ادارے کی کتب کے آخر میں مندرجہ فہرست کا تسلسل
 یہ شعبہ سنہ 2006ع‍ سے سنہ 2016ع‍ تک اسلامی اطلاعات و دستاویزات مرکز میں "شعبہ فہرست سازی و فہرست نویسی" کہلاتا تھا اور سنہ 2016ع‍ سے مذکورہ مرکز کے ارتقائی مراحل سے گذرنے کے بعد "تحقیقاتی ادارہ برای انتظام اسلامی معلومات و دستاویزات" میں بدل گیا جس کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ بھی "تحقیقی شعبہ برائے تنظیم اطلاعات و دستاویزات" کے نام سے موسوم ہوا اور یوں اس کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آئی اور اس کو زیادہ اہم فرائض اور ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ 
اس شعبے کے فرائض اور اس کا مشن کچھ یوں ہے: معیار سازی، مطالعۂ تحلیل اجزاء اور کنٹرول شدہ اصطلاحات (اصطلاح نامے) سے استفادہ کرتے ہوئے وصف نگاری کرنا۔ 
اس شعبے کی فعالیت کی حدود میں اسلامی علوم و معارف کی فہرست بندی، کتابیات اور موضوعات یا دستاویزات کو منظم کرنے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے اقدامات شامل ہیں۔ 
گذشتہ 12 سال کے عرصے میں اس شعبے کی زیادہ تر فعالیت اسلامی مآخذ کی فہرست بندی پر مرکوز تھی اور اس شعبے میں اس نے اسلامی معلومات اور علوم کی ترتیب و تنظیم کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ کارکردگی کا ثبوت دیا ہے اور اس وقت ملک معلومات کی فراہمی کا اہم ترین اور اطمینان بخش ترین مرکز ہے۔ 
اب تک اس شعبے کی فہرست بندی ذیل کے تین محوروں میں انجام پائی ہے:
الف: اسلامی مآخذ کی مجموعی ـ موضوعی فہرست بندی:
مجموعی (ترکیبی) ـ موضوعی فہرست بندی سے مراد ـ پہلے مرحلے میں اسلامی مآخذ کے مطلوبہ متون کا بغور مطالعہ اور ذہنی (مفہومی) تجزیہ اور ان کے بطن سے موضوع یا موضوعات کی تلاش اور دوسرے مرحلے میں تلاش شدہ موضوعات میں سے ہر ایک کا مفہوم نمایاں کرنے کے لئے (کنٹرول شدہ انداز سے) چند اصطلاحات یا الفاظ کا انتخاب اور انفارمیشن مینیجمنٹ سسٹم میں مندرج کرنا ـ ہے؛ یوں کہ ایک قسم کے خلاصہ نما فہرست حاصل ہوجاتی ہے اور اطلاعات کی بازیابی اور تلاش کے وقت اس فہرست میں مندرج جس لفظ و اصطلاح کو تلاش کیا جائے متعلقہ فہرست دکھائی جاتی ہے اور متعلقہ اصلی متن سے رجوع کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ 
یہ اطلاعات کو منظم کرنے کے سلسلے میں ایک جدید اور بدیع روش ہے جس کو اس تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ایجاد کیا ہے اور ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ 

 
منبع: اسلامی علوم و ثقافت اکیڈمی
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID