شعبہ سیاسی فقہ

باسمہ تعالی
اسلام میں سیاسی علم، مختلف رجحانات کا حامل ہے اور فقہ، فلسفہ، کلام یا تفسیر قرآن جیسے متعدد اسلامی علوم کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کے سیاسی نقطہ نظر کو مورد توجہ ٹہرایا جاسکتا ہے۔ سیاسی فقہ کو سیاست کے اسلامی علوم کے انتہائی بنیادی رجحان کے طور پر، حوزات علمیہ میں اسلامی کے سیاسی علوم کے دیگر رجحانات کے مقابلے میں، قدیم تر اور دوگنا مؤثر رجحان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ فہمِ اسلام میں فقہ کا بنیادی کردار ہے۔ اسی رو سے ولایت فقیہ کا موضوع عصر غیبت میں اسلام کے سیاسی نظام کے محور کے طور پر، شیعہ فقہ میں اور فقہی مباحث کے ذیل میں، زیر بحث آتا ہے۔ 
حوزات علمیہ میں سیاسی فقہ پر تاکید، فقہاء کی کتب میں موجود سیاسی مباحث کے مقتدر ورثے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی فقہ کے اصولوں پر استواری باعث ہوئی کہ اسلامی علوم و افکار کے تحقیقاتی مرکز کا علمیاتی نظام (Epistemological system) "شعبۂ سیاسی فقہ" کی تاسیس کا مرہون منت ہو۔ اس لحاظ سے سیاسی فقہ کا شعبہ شعبۂ سیاسی علوم و افکار کا ہم زاد اور ہم عمر ہے؛ بلکہ اس تحقیقاتی اکیڈمی کے شعبۂ سیاسی فقہ کو اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں معرض وجود میں آنے والا سب سے پہلا سیاسی فکری شعبہ قرار دیا جاسکے جس کا دارومدار سیاسی فقہ پر ہے۔ 
یہ موضوع اسلامی جمہوریہ ایران کے حکومتی نظام کی فقہی بنیادوں کی تشریح اور شیعہ سیاسی فقہ کے مالامال ورثے کی از سر نو تخلیق کی ضرورت کے خواہشمند نوجوان دینی طلبہ کی کوششوں کے علاوہ، اس تھنک ٹینک کے شعبوں کے علمیاتی ڈھانچے سے مستند تھا اور اکیڈمی کے خاکہ سازوں اور منصوبہ سازوں نے سیاسی فقہ کا بھرپور اہتمام کرتے ہوئے اسلام کے بارے میں سیاسی مطالعہ و تحقیق کا بنیادی حصہ سیاسی فقہ کے شعبے کو سونپ دیا۔ 
یہ علمی شعبہ ـ جو اس وقت تین فیکلٹی اراکین اور ایک کل وقتی محقق پر مشتمل ہے ـ حوزہ علمیہ سے متصل جامعاتی تعلیم یافتہ محققین کی ایک بڑی تعداد کی مدد سے، (سنہ 1994ع‍ سے 2015ع‍ تک) اپنے 20 سال سے زائد تحقیقی پس منظر کے ساتھ، تحقیق کے میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کرچکا ہے۔ اس علمی شعبے میں تخلیق شدہ کثیر اور مؤثر تعداد میں کتب و مقالات، اس کے توازن کو مثبت اور کارآمد قرار دیتے ہیں اور اس مرکز کی 25 کاوشوں کا برگزیدہ آثار کے عنوان سے چناؤ اس مدعا کی تائید ہے۔ 
اس علمی شعبے میں سیاسی فقہ کے مباحث کے علاوہ، قرآن کی سیاسی تفسیر اور معتبر شیعہ منابعِ حدیث کی مرویات کو بنیاد بناکر سیاسی احادیث کی تدوین کو بھی توجہ دی گئی ہے اور ان حوالوں سے بھی تحقیقات انجام پا رہی ہیں۔ 

شعبہ سیاسی فقہ کا تحقیقی دائرہ کار*
الف) تحقیقاتی دائرے
1۔ سیاسی فقہ کا فلسفہ (توصیفی اور تجویزی)
2۔ سیاسی فقہ کی عمرانیات
3۔ سیاسی فقہ کی تاریخ
4۔ سیاسی فقہ کو درپیش مسائل کی شناخت اور تنقیدی جائزہ
5۔ تقابلی مطالعات
6۔ سیاسی فقہ کے مسائل اور موضوعات
7۔ قرآن کی سیاسی تفسیر **

ب) موضوعاتی ترجیحات
1۔ شیعہ سیاسی نظام
2۔ ولایت فقیہ
3۔ سیاسی فقہ کے موجودہ تشخص کی شناخت اور تنقیدی جائزہ
4۔ اسلامی جمہوریہ کے مسائل
 
منبع: اسلامی علوم و ثقافت اکیڈمی
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID