شعبہ فقہی و قانونی مسائل جو کچھ آج دینی علوم کے میدان میں غالب پہلو کا حامل ہے اور اس کو بزرگ دینی علماء کی صدیوں کی محنت، مطالعات اور تحقیقات کی پشت پناہی حاصل ہے وہ علم فقہ اور اللہ کے فروعی احکام سے متعلق احکام سے عبارت ہے۔ اگر کوئی غائرانہ انداز سے آج کے حوزات علمیہ کی فیصلہ کن تعریف فراہم کرنا چاہے اور اس کا تعارف کروانا چاہے تو ہر چیز سے پہلے اس کی مبارک جبیں پر "فقہ" کا نام دکھائی دیتا ہے جو حیرت انگیز تابندگی کے ساتھ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔ 
اپنی طویل تاریخ، گہرائی، استدلال اور استواری کے باوجود مذہب امامیہ کی اس گراں قدر میراث کے تعارف کا حق آج تک ادا نہیں ہوا ہے اور یہ میراث عمدہ اور نہایت قابل قدر کتب کی جلدوں میں محبوس رہی ہے۔ دوسری طرف سے جدید ٹیکنالوجی کے ظہور اور فردی اور معاشرتی پہلؤوں میں انسانی حیات اور معیشت کے ڈھانچے کی تبدیلی کو شریعت کی بنیاد پر جواب دینے کی ضرورت ہے؛ اور جیسا کہ رہبر معظم امام خامنہ ای نے فرمایا ہے: "فکر تشیّع کی تولیدی مشینری کو اس مہم کا جواب دینا چاہئے، آج کی زندگی کی دیگرگونیوں کا صحیح طریقے سے تعارف کروانا چاہئے، اور انہيں شریعت کے معیاروں پر منطبق کرکے، معاشرتی ضوابط، روابط اور تعلقات کو اسلام کے حیات آفرین احکام کی بنیاد پر استوار کرنا چاہئے"۔ 
فقہ و قانون کی یونٹ کا شعبۂ فقہی مسائل کا عزم ہے کہ مذہب امامیہ کے بزرگ فقہاء کی کاوشوں کا سنجیدہ اور مستحکم مطالعے کے لئے جامعات کے محققین کی تلاش اور دعوت عام کے ساتھ ساتھ، جدید مسائل و مباحث اٹھا کر، علمی، اصولی اور فقہی معیاروں کے عین مطابق، اور وقت اور جگہ کے تناسب سے، ان کے لئے جوابات فراہم کرے۔ اس سلسلے میں حوزہ علمیہ کے دقیق النظر اور نکتہ رس و متجسس محققین نیز جامعات میں قانون کے ماہر محققین کی خدمات سے استفادہ کرنا اس شعبے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔  

1۔ شعبے کا تحقیقی دائرہ 
   1۔ شعبۂ فقہی و قانونی مسائل، ان خاص فقہی اور قانونی موضوعات پر غور و فکر کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہے جو وسیع تر سطح پر معاشرے اور ایران کے اسلامی نظام کو درپیش ہیں اور اس کو چیلنج کر رہے ہیں۔ 
   2۔ عوامی، نجی، فوجداری، گھریلو اور بین الاقوامی قوانین سمیت قانون کے تمام شعبوں میں درپیش مسائل ـ جو تحقیقی مرکز کے اہداف و مقاصد میں شامل ہیں اور خاص فقہی مباحث (بالمقابل فقہی فلسفے کے مباحث) سے تعلق رکھتے ہیں ـ اس شعبے کے تحقیقی دائرے میں آتے ہیں۔ 
   3۔ بنیادی حقوق کا وہ حصہ جس کا تعلق سیاسیات سے ہے لیکن استنباطِ احکام یا فقہی نظریات سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا، اس شعبے کی قلمرو سے خارج ہے۔ 
   4۔ انسانی حقوق سے متعلق مباحث کے کلی اور فلسفیانہ پہلو اس شعبے کے دائرے سے خارج ہیں تاہم انسانی حقوق کے خاص مصادیق ـ جیسے مرتدّ کے احکام، آزادی کے موضوعات کے فقہی پہلو، عوام اور حکومت کے تعلقات وغیرہ ـ اس شعبے کے دائرے میں آتے ہیں۔ 

2۔ شعبے کے مقاصد
 شعبۂ فقہی و قانونی مسائل کے مطالعات کا اہم ترین مقصد ذیل کے امور پر مشتمل ہے: 
   1۔ جدید موضوعات بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام حکومت کو درپیش موضوعات کے سلسلے میں ہمآہنگ اور مربوط فقہی اور قانونی راہ حل پیش کرنا؛
   2۔ مالامال شیعہ فقہ کو نئے لباس میں، جگہ اور وقت کے تقاضوں سے متناسب بنا کر پیش کرنا؛
   3۔ حوزات علمیہ کو درپیش فقہی اور قانونی موضوعات نیز درپیش چیلنجوں کی تشریح، علمی اور عملی حکمت عملیوں کے ہمراہ۔

3۔ شعبے کے فرائض
مذکورہ مقاصد کے حصول کے لئے یہ تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ حسب ذیل ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے:
ذیل کے موضوعات میں تحقیقی منصوبوں کے بارے میں مطالعہ، تحقیق اور ان منصوبوں پر عمل درآمد: 
   1۔ جدید اور خاص فقہی موضوعات (فقہی فلسفے کے موضوعات کے مقابلے میں) 
   2۔ جدید فقہی ـ قانونی موضوعات ـ عمومی، نجی، فوجداری، داخلی اور بین الاقوامی قوانین سمیت تمام قانونی شعبوں ـ بالخصوص اسلامی جمہوری نظام کی ضرورت کے موضوعات؛
   3۔ فقہ کے قدیم موضوعات جنہیں کسی وجہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے، بالخصوص وہ موضوعات جن کی اسلامی جمہوری نظام کو ضرورت ہے؛
   4۔ اسلام کا قانونی نظام، اور دوسرے قانونی نظامات کے ساتھ اس کا تقابلی مطالعہ؛
   5۔ کارآمد فقہی اور قانونی نمونے اور نظریات؛
   6۔ اسلامی جمہوری نظام کی فقہی اور قانونی کمیوں، ضرورتوں، کمزوریوں اور مشکلات کی شناخت؛ 
   7۔ اسلامی جمہوری نظام کے قانون ساز اداروں، نظام عدل اور انتظامی امور کی فقہی اور قانونی کمزوریوں کی شناخت؛
   8۔ تربیتی ورکشاپوں، علمی نشستوں اور مکالموں کے انعقاد اور مطالعے کے مواقع کی فراہمی وغیرہ کے ذریعے علم کی نشوونما اور فروغ کے لئے اسباب فراہم کرنا اور تحقیقاتی شعبے کے محققین کی صلاحیت میں اضافہ کرنا۔
   9۔ باصلاحیت محققین اور صاحبان رائے و نظر کا سراغ لگانا اور ان کی خدمات حاصل کرنا اور حوزہ علمیہ میں فقہ کے میدان میں مصروف عمل محققین کی پشت پناہی کرنا، تاکہ ان کی نشوونما اور ارتقاء کو ممکن بنایا جاسکے؛
   10۔ حوزات علمیہ کو فقہ و قانون اسلامی کے میدان میں اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو درپیش جدید زمانے کے سوالات اور چیلنجوں کے جوابات کے سلسلے میں معلومات فراہم کرنا؛
   11۔ شعبے کے مقاصد کے حصول کی غرض سے علمی و تحقیقی مراکز، انسٹی ٹیوٹس اور اداروں نیز انتظامی اداروں کے ساتھ فعالانہ رابطہ اور تعاون؛ 
   12۔ مشترکہ منصوبوں کے نفاذ کی غرض سے مرکز کے دوسرے شعبوں کے ساتھ فعال اور تعمیری رابطہ برقرار کرنا۔ 

5۔ ترجیحات
   1۔ ان جدید پیدا ہونے والے مسائل کی موضوع شناسی (Subjectology) اور آراء اور اصولوں کی رپورٹنگ، جن کا فقہ میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں کوئی واضح اور تعریف شدہ پس منظر نہيں ہے
   2۔ ان بڑے اور کلاں موضوعات میں تحقیق جو فقہی، قانونی شعبوں اور قانون سازی میں اسلامی جمہوری نظام کی صلاحیت کو چیلنج کرتے ہیں
   3۔ ان موضوعات پر تحقیق جو فقہی پہلو میں ـ خاص طور پر فکری سرچشموں کے لحاظ سے ـ معاشرے کی ثقافت اور نوجوان نسل کو متاثر کرتے ہیں
 
منبع: Islamic Sciences and Culture Academy
خانه | بازگشت | حريم خصوصي كاربران |
Guest (PortalGuest)

پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامي - دفتر تبليغات اسلامي حوزه علميه قم
Powered By : Sigma ITID